اسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے باپ بیٹی کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا، دونوں کی تلاش کے...
Read Moreاسلام آباد کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی سمیت بہہ جانے والے باپ بیٹی کا تاحال کوئی سراغ نہ مل سکا، دونوں کی تلاش کے...
Read Moreبی جے پی حکومت نے انوکھا فیصلہ کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ بورڈ کونیشنل اسپورٹس گورننس بل کے تحت شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ بل بدھ...
Read Moreہاکی نیوزی لینڈ نے پرو ہاکی لیگ میں شرکت سے معذرت کرتے ہوئے دستبرداری کے فیصلے سے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو آگاہ کردیا۔ انٹر نیشنل...
Read Moreپشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے...
Read More
پاکستانی سوشل میڈیا صارفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ٹیکس قوانین میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد پاکستان کی بنیادی ٹیکس ریگولیٹری ایجنسی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)کو ٹیکس فراڈ کی تحقیقات کے دوران شہریوں کے انٹرنیٹ پروٹوکول (IP) ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔
یہ دعویٰ درست ہے۔
سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر گردش کرنے والی پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایف بی آر کو اب پاکستانی شہریوں کے انٹرنیٹ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔
واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنے والے ایک میسج میں دعویٰ کیا گیا کہ”فنانس ایکٹ 2025 نے ایف بی آر کو ٹیکس فراڈ کی تحقیقات کے دوران شہریوں کے انٹرنیٹ ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دے دی ہے۔
اس میں انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز (ISPs)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور دیگر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں سے حاصل کردہ ہسٹری شامل ہے۔“
سرکاری ادارے وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو واقعی فنانس ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعد یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ اگر کسی شخص پر ٹیکس فراڈ کا شبہ ہو تو اس کے انٹرنیٹ استعمال سے متعلق ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، اس بات کی تصدیق فنانس ایکٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک وکیل نے بھی کی ہے۔
29 جون کو گزٹ ہونے والے فنانس ایکٹ 2025نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں کئی ترامیم کی ہیں۔
1990 کے قانون کے سیکشن 38B میں کی گئی ایک اہم ترمیم، ذیلی شق (5) کا اضافہ ہے، جو ایف بی آر کو اجازت دیتی ہے کہ وہ کسی فرد کا انٹرنیٹ پروٹوکول (IP) ڈیٹا براہِ راست انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے اداروں، سرکاری پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور نجی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں سے حاصل کر سکے۔
اس سے قبل، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 صرف ایف بی آر کو کسی فرد، محکمے یا ادارے سے دستاویزات یا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار دیتا تھا تاہم، نئی ذیلی شق اس اختیار کو الیکٹرانک دائرہ کارتک توسیع دیتی ہے۔
ذیل میں اس ایکٹ میں کی گئی ترمیم درج ہے، جبکہ فنانس ایکٹ 2025 کو یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل، ثاقب جیلانی نے بھی جیو فیکٹ چیک سے تصدیق کی کہ نئی ترمیم ایف بی آر کو شہریوں کے آئی پی ڈیٹا تک عدالتی منظوری کے بغیر رسائی کی اجازت دیتی ہے، انہوں نے عدالتی نگرانی نہ ہونے کی صورت میں اس اختیار کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا ”پرائیویسی ہمارے آئین میں ایک بنیادی حق ہے اور یہ سیکشن پرائیویسی کی خلاف ورزی کرتا ہے، ایسی expectations ہیں جب قومی سلامتی کے خدشات ہوں یا ٹیکس فراڈ ہونے کے واضح ثبوت موجود ہوں، لیکن عدالت کی نگرانی لازمی ہوتی ہے، میری رائے میں یہ ترمیم غیر آئینی ہے کیونکہ اس میں مناسب حفاظتی اقدامات نہیں ہیں اور نہ ہی اس کسیکشن کے استعمال پر چیک کے کوئی اقدامات ہیں۔“
فیصلہ: فنانس ایکٹ 2025 کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 38B میں کی گئی ترمیم کے بعد، ایف بی آر کو اب ٹیکس فراڈ کی تحقیقات کے دوران شہریوں کے آئی پی ڈیٹا تک قانونی طور پر رسائی حاصل ہے۔